وہ شمع میں پروانہ
وہ شمع میں پروانہبس اتنی سی کہانی ہےوہ جی رہے ہیں آج بھیہماری بس راکھ باقی ہے
My Poetry
کبھی دیکھ سرِ بازار اُسے، کیسے سب بھلا کے جھومتا ہےکبھی دیکھ تنہائی میں اُسے، خود کو گلے لگا کے
عشق، یار اور شوقِ وصلِ یاردوری، عداوت اور ذرا سا پیاربستر، تیری یاد اور شوقِ تنہائیآنسو، بلکنا، تڑپنا اور سسکنا
میرے بس میں تو کچھ بھی نہیںسواۓ اس کے کہ میں کوشش کروںبہت سوچا اس زندگی کے بارے میںبس اب
وہ پہلی بار جب میں نے اُسے دیکھابڑی نادان سی تھی جیسےکوئی پرندہ ایک ڈالی سے دوسری ڈالی پر چہکتا
آج وہ آتے ہی بولی، تمہیں معلوم ہے کیا ہوا؟مجھے معلوم ہے کیا ہونا ہے، تو میں بولا کیا ہوا؟کہنے