کبھی دیکھ سرِ بازار اُسے، کیسے سب بھلا کے جھومتا ہے
کبھی دیکھ تنہائی میں اُسے، خود کو گلے لگا کے روتا ہے
یہ حقیقت ہے اس دنیا کی، یہی بھید ہے فانی دنیا کا
یہاں جو برتن جتنا شور کرے، وہ اتنا خالی ہوتا ہے
Poetry
کبھی دیکھ سرِ بازار اُسے، کیسے سب بھلا کے جھومتا ہے
کبھی دیکھ تنہائی میں اُسے، خود کو گلے لگا کے روتا ہے
یہ حقیقت ہے اس دنیا کی، یہی بھید ہے فانی دنیا کا
یہاں جو برتن جتنا شور کرے، وہ اتنا خالی ہوتا ہے