در بدر
اے برسات ایک بات تو بتاکیا تُو برستی ہے تو دھرتی سے پوچھ کرمانا کہ حق ہے تیرا برسنا بھیمگر
Blog
اگر اجازت ہو تو ایک بات کہوں تم سےیوں کسی کو انتظار کروانا اچھا نہیں ہوتااب تو شیخ نے بھی
کبھی دیکھ سرِ بازار اُسے، کیسے سب بھلا کے جھومتا ہےکبھی دیکھ تنہائی میں اُسے، خود کو گلے لگا کے
عشق، یار اور شوقِ وصلِ یاردوری، عداوت اور ذرا سا پیاربستر، تیری یاد اور شوقِ تنہائیآنسو، بلکنا، تڑپنا اور سسکنا
میرے بس میں تو کچھ بھی نہیںسواۓ اس کے کہ میں کوشش کروںبہت سوچا اس زندگی کے بارے میںبس اب