Poetry

مجھے آزادی دیجیے

مجھے آزادی دیجیے

سب کہتے ہیں میں آزاد ہوں
مجھے وہ آزادی دیجیے

میری جان چاہیے تو لے لیجیے
مجھے وہ آزادی دیجیے

میں کھل کر بول سکوں
مجھے وہ آزادی دیجیے

انصاف سے لبریز ہو
مجھے وہ آزادی دیجیے

وراثت جو امیر کی ہے
مجھے وہ آزادی دیجیے

جہاں عورت بھی جی سکے
مجھے وہ آزادی دیجیے

سگِ سردار سی نہیں، عقاب سی ہو
مجھے وہ آزادی دیجیے

ستاروں کو بھی چھو سکے
مجھے وہ آزادی دیجیے

ہو سکے تو اس اگست میں
مجھے وہ آزادی دیجیے