میرے حالات نے اک بات سمجھائی ہے مجھے
میرے الفاظ کی اوقات بھی میری جیب سے ہے
مرد ہو تو عشق بھی کمانا پڑتا ہے
داستانِ عشق کی ابتدا بھی تو اک سیب سے ہے
رہ جاتے ہیں بہت سے امیر، غریبوں جیسے
معجزوں کا اصل رشتہ تو غیب سے ہے
عشق اور جنگ میں سب جائز ہے لیکن
اس ہار کا تعلق تو تیرے فریب سے ہے
نہ رہی اب مجھ میں اور کوئی سکت باقی
میری تشنگی کی ابتدا تیرے آسیب سے ہے