سب کہتے ہیں میں آزاد ہوں
مجھے وہ آزادی دیجیے
میری جان چاہیے تو لے لیجیے
مجھے وہ آزادی دیجیے
میں کھل کر بول سکوں
مجھے وہ آزادی دیجیے
انصاف سے لبریز ہو
مجھے وہ آزادی دیجیے
وراثت جو امیر کی ہے
مجھے وہ آزادی دیجیے
جہاں عورت بھی جی سکے
مجھے وہ آزادی دیجیے
سگِ سردار سی نہیں، عقاب سی ہو
مجھے وہ آزادی دیجیے
ستاروں کو بھی چھو سکے
مجھے وہ آزادی دیجیے
ہو سکے تو اس اگست میں
مجھے وہ آزادی دیجیے
