میں نے لکھا ، درد

میں نے لکھا ، درد
آواز آئی ، مکرر
کبھی ہنستا تھا شام و سحر
اب غموں کے تیر و نشتر
جام میں نے بھی پیا اور پلا دیا
اب جو ہوگا تو دیکھیں گے سرِ محشر
میں جو آنکھ بند کروں تو وہ آئے نظر
کیا دوا بھی بھلا دوں درد کے پیشِ نظر

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top