Poetry

پتھر کو پوجنے والے بھی دل رکھتے تھے

پتھر کو پوجنے والے بھی دل رکھتے تھے
اب تو انسان نے سینے میں پتھر بسا لیے
وہ جو کہتے تھے آپ کے سوا کسی کو دیکھا تک نہیں
آج اُس شخص نے بھی صنم کئی اور بنا لیے
بے داغ تھا کردار اور بے داغ سا دل
آج میں نے بھی اپنے سنسار کو پیوند لگا لیے
تنہائی کی سرد مہری سے بچیں اس واسطے
سب نے مل کر اپنے آشیانے جلا لیے
اب بچا تو تُو اور تیرا ہی آسرا
تجھے تک آتے آتے سب آسروں کو آزما لیے