پتھر کو پوجنے والے بھی دل رکھتے تھے
پتھر کو پوجنے والے بھی دل رکھتے تھے
اب تو انسان نے سینے میں پتھر بسا لیے
وہ جو کہتے تھے آپ کے سوا کسی کو دیکھا تک نہیں
آج اُس شخص نے بھی صنم کئی اور بنا لیے
بے داغ تھا کردار اور بے داغ سا دل
آج میں نے بھی اپنے سنسار کو پیوند لگا لیے
تنہائی کی سرد مہری سے بچیں اس واسطے
سب نے مل کر اپنے آشیانے جلا لیے
اب بچا تو تُو اور تیرا ہی آسرا
تجھے تک آتے آتے سب آسروں کو آزما لیے