میری کہانی
میں پاگل ہوں یا دیوانہ یہ نہ سمجھ سکا کوئی
جس جس نے جو جو سمجھا نہ کہ سکا کوئی
ہر شخص کے پاس اپنی ہی ایک کہانی تھی
میری کہانی کو اس سے قطع کیے بنا نہ رہ سکا کوئی
میری بھی ایک کہانی ہے مگر میری کہانی میں اچھائی اور برائی دونوں کا کردار میں خود نبھا رہا ہوں اور وجہ ایک ہے وہ وجہ یہ ہے کہ میری سوچ آج تک کسی اور سوچ سے نہیں ملی اور یہی وجہ ہے کہ میری سوچ نے مجھے تنہا کردیا ہے، مگر اب بھی امید ہے کیونکہ میں کچھ نہیں کر سکتا پر میرا رب تو ہے۔
میں جو تنہا چل پڑا ہوں جانب منزل
مجھے اس تنہائی میں بھی اک ساتھ نظر آتا ہے
لاکھ داغدار سہی پھر بھی
چاند ستاروں کے ساتھ ہی نظر آتا ہے
نا امید نہیں ہوں میں مگر کبھی کبھی امید ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کسی سے خفا بھی نہیں مگر یہ تنہائی، یہ کبھی سیدھا سوچنے نہیں دیتی، کیونکہ جب غار میں روشنی نظر نہ آئے تو موت کا ڈر غالب آ جاتا ہے اور جو شخص موت سے کوسوں دور ہو وہ بھی موت کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔
مجھ ڈر نہیں تھا موت کا، وہ حقیقت ہے
ڈر تنہائی ہے پھر یہ بھی تو حقیقت ہے
تیرے بنا جی لوں یہ بھی حقیقت ہے
اس زندگی سے موت بہتر، پھریہ بھی تو حقیقت ہے