روز چلا آتا ہوں
روز چلا آتا ہوں دل ہاتھ میں لیے
جانے آج اس پہ کیا نیا زخم دے گی
لوگ بنواتے ہیں جسم پہ نقش و نگار
مجھے معلوم ہے تُو میرے دل کو سجا لے گی
خون ٹپکے گا، تڑپے گا دل مگر
مجھے یقین ہے کہ تُو اس کو سمجھا سکے گی
تیرے لیے زخم کھائے، رسوا ہوا، سینہ تک چیر دیا
مگر اب تو تُو میرے جنازے سے بھی پردہ کرے گی
محشر ہے، خدا ہے، حساب ہونا ہے
اتنا تو یقین ہے تُو بھی اک دن تو مرے گی