Poetry

روز چلا آتا ہوں

روز چلا آتا ہوں دل ہاتھ میں لیے
جانے آج اس پہ کیا نیا زخم دے گی
لوگ بنواتے ہیں جسم پہ نقش و نگار
مجھے معلوم ہے تُو میرے دل کو سجا لے گی
خون ٹپکے گا، تڑپے گا دل مگر
مجھے یقین ہے کہ تُو اس کو سمجھا سکے گی
تیرے لیے زخم کھائے، رسوا ہوا، سینہ تک چیر دیا
مگر اب تو تُو میرے جنازے سے بھی پردہ کرے گی
محشر ہے، خدا ہے، حساب ہونا ہے
اتنا تو یقین ہے تُو بھی اک دن تو مرے گی