اس دنیا کی حقیقت

کبھی دیکھ سرِ بازار اُسے، کیسے سب بھلا کے جھومتا ہے
کبھی دیکھ تنہائی میں اُسے، خود کو گلے لگا کے روتا ہے
یہ حقیقت ہے اس دنیا کی، یہی بھید ہے فانی دنیا کا
یہاں جو برتن جتنا شور کرے، وہ اتنا خالی ہوتا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top