Poetry

میری کہانی

میں پاگل ہوں یا دیوانہ یہ نہ سمجھ سکا کوئی
جس جس نے جو جو سمجھا نہ کہ سکا کوئی
ہر شخص کے پاس اپنی ہی ایک کہانی تھی
میری کہانی کو اس سے قطع کیے بنا نہ رہ سکا کوئی

میری بھی ایک کہانی ہے مگر میری کہانی میں اچھائی اور برائی دونوں کا کردار میں خود نبھا رہا ہوں اور وجہ ایک ہے وہ وجہ یہ ہے کہ میری سوچ آج تک کسی اور سوچ سے نہیں ملی اور یہی وجہ ہے کہ میری سوچ نے مجھے تنہا کردیا ہے، مگر اب بھی امید ہے کیونکہ میں کچھ نہیں کر سکتا پر میرا رب تو ہے۔

میں جو تنہا چل پڑا ہوں جانب منزل
مجھے اس تنہائی میں بھی اک ساتھ نظر آتا ہے
لاکھ داغدار سہی پھر بھی
چاند ستاروں کے ساتھ ہی نظر آتا ہے

نا امید نہیں ہوں میں مگر کبھی کبھی امید ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ کسی سے خفا بھی نہیں مگر یہ تنہائی، یہ کبھی سیدھا سوچنے نہیں دیتی، کیونکہ جب غار میں روشنی نظر نہ آئے تو موت کا ڈر غالب آ جاتا ہے اور جو شخص موت سے کوسوں دور ہو وہ بھی موت کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔

مجھ ڈر نہیں تھا موت کا، وہ حقیقت ہے
ڈر تنہائی ہے پھر یہ بھی تو حقیقت ہے
تیرے بنا جی  لوں یہ بھی حقیقت ہے
اس زندگی سے موت بہتر، پھریہ بھی تو حقیقت ہے