نادان
وہ پہلی بار جب میں نے اُسے دیکھا
بڑی نادان سی تھی جیسے
کوئی پرندہ ایک ڈالی سے دوسری ڈالی پر چہکتا پھرتا
اُس کی آنکھوں میں شرارت تھی جیسے
بُجھی آگ میں ہو کوئی انگارہ دہکتا
وہ میرے قریب سے گزری اور مجھے چھو گئی
وہ رُکی، پلٹی، مسکرائی اور بھاگ نکلی
وہ تو تھی ایک کانچ کی گڑیا
اُس کے پیچھے پیچھے میری روح بھی چل نکلی