میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں
میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں
سواۓ اس کے کہ میں کوشش کروں
بہت سوچا اس زندگی کے بارے میں
بس اب قصہ ختم کروں
جو میرا ہے اس پر بھی میرا اختیار کچھ بھی نہیں
عطا زندگی کو میں اب کیونکر نہ فنا کروں
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو سکا
حق تو یہ ہے کہ ہر لمحہ تجھے یاد کروں
پریشان ہوں مگر دل میں تو آباد تو ہے
الہی اس بات پر بھی میں تیرا شکر ادا کیوں نہ کروں
بہت آتی ہیں گھڑیاں غم و اضطراب کی
میرا حق ہے کہ میں نماز پڑھوں، صبر کروں
وعدہ ہے تیرا تو صبر والوں کا ساتھی ہے
بعداز تیرے اس قول، صبر اے مالک کیوں نہ کروں