Poetry

میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں

میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں
سواۓ اس کے کہ میں کوشش کروں
بہت سوچا اس زندگی کے بارے میں
بس اب قصہ ختم کروں
جو میرا ہے اس پر بھی میرا اختیار کچھ بھی نہیں
عطا زندگی کو میں اب کیونکر نہ فنا کروں
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو سکا
حق تو یہ ہے کہ ہر لمحہ تجھے یاد کروں
پریشان ہوں مگر دل میں تو آباد تو ہے
الہی اس بات پر بھی میں تیرا شکر ادا کیوں نہ کروں
بہت آتی ہیں گھڑیاں غم و اضطراب کی
میرا حق ہے کہ میں نماز پڑھوں، صبر کروں
وعدہ ہے تیرا تو صبر والوں کا ساتھی ہے
بعداز تیرے اس قول، صبر اے مالک کیوں نہ کروں