!اے زندگی
!اے زندگی
جیت چکی ہے تو
چل اب تو مجھے گزر جانے دے
یہ بات تب کی ہے کہ جب میں پیدا ہوا۔ تب سے میرا اور زندگی کا اک مقابلہ شروع ہوا۔ میرے ساتھ میرا حوصلہ و ہمت تھے۔ دکھ اور مصائب نے زندگی بھی کا ساتھ چنا۔ شروعات میں گھر والے، دوست اپنے سب تھے تو مقابلے کی سمجھ بھی نہ آئی مگر جیسے جیسے وقت گزرا میں کمزور ہوتا چلا گیا۔
لوگ نہیں بدلتے، صرف راستے بدلتے ہیں
کہ ہر مسافر کی منزل ایک ہی نہیں ہوتی
کچھ لوگ رہتے ہیں سنگ زندگی بھر
ہر شخص کی قسمت اچھی نہیں ہوتی
میرے دوست نہیں بنتے اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں زندگی سے ہار چکا ہوں۔ میری بچپن کی دوست شاید جس نے ہر معرکہ میں میرا ساتھ دیا، اس ہی نے یہ راز مجھ پر فاش کیا کہ مجھے میں ہر شخص کو اک خاص نظریے سے دیکھنے کی بیماری ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ یا اور کوئی بھی شخص مجھ سے دوستی کا خواہاں نہیں۔
میں نے دیکھا ہے یہاں ہر سواری پر سوار بیٹھا ہے
جو جہاں بھی بیٹھا ہے خود سے بیزار بیٹھا ہے
لا کے دیتا رہتا ہے پیغام دینے والا
سسننے والا جو یہاں شرمسار بیٹھا ہے
زندگی اپنی بازی کھیلتی رہی اور جب کوئی نہ رہا تو اپنا حوصلہ و ہمت لے کر میدان میں اترنا پڑا مگر مجھ ناسمجھ کو یہ بھی سمجھ نہ آیا کہ جو ہتھیار میں لے کر اترا تھا وہ زنگ کھا چکے تھے۔ پیٹ کی آگ سے اٹھتے دھویں سے جو آنسو نکلے وہ ان ہتھیاروں کے دشمن نکلنے ے۔
پرندوں سی ہو چکی ہے یہ زندگی میری
دن بھر اڑتے پھرتے خوراک کی تلاش
رات پڑتے ہی کھوکھلے سکوں کی آس
زندگی جینے کو مجھے بھی اک پل چاہیے
رات باقی ہے مگر مجھے کل چاہیے
اور اس طرح کی تگ ودو میں جانے کب زندگی جیت گئی۔ اب تو ایک ہی گزارش ہے اس سے
!اے زندگی
جیت چکی ہے تو
چل اب تو مجھے گزر جانے دے