آج وہ آتے ہی بولی

آج وہ آتے ہی بولی، تمہیں معلوم ہے کیا ہوا؟
مجھے معلوم ہے کیا ہونا ہے، تو میں بولا کیا ہوا؟
کہنے لگی مجھے یہاں کام نہیں کرنا،
ان گھمنڈی عورتوں سے مجھے وارتالاب نہیں کرنا۔
میں نے پوچھا بات تو بتاؤ،
یوں غصے میں ہو کوئی وجہ تو بتاؤ۔
کہنے لگی وہ رقیہ ہے نا؟
میں بولا ہاں ہاں ہے نا۔
میں نے سوچا آج عقل لڑاؤں،
دو باتیں میں بھی کر جاؤں۔
میں نے کہا وہی نا مغرور لیلا،
نہ آنکھیں پیاری نہ چاند سا چہرہ۔
میری باتیں سن کے بولی،
اُسے چھوڑ مجھ پہ چڑھ دوڑی۔
دوسروں کا چاند سا چہرہ،
اور مجھ سے پیار وہ بھی آدھا ادھورا۔
تم بھی اب وہیں پہ جاؤ،
وہیں جا کر چکر چلاؤ۔
اسے ہی کہتے ہیں تیر لینا،
کسی کی آی خود پہ لینا۔
لے لیا اب میڈم سے پنگا،
.اب ہوگا موت کا ناچ ننگا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top